نئی دہلی27فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) بدھ کو دہلی کی ایک عدالت کو بتایا کہ مظفر پور شیلٹرہوم جنسی استحصال کے معاملے میں اس نے دو خصوصی سرکاری وکلاء کو مقرر کیا ہے۔دلیل سننے کے بعد عدالت نے دونوں فریقوں کو سماعت کی اگلی تاریخ دو مئی سے جرح شروع کرنے کی ہدایت دی۔ایڈیشنل سیشن جج سوربھ کلشریشٹھ نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ اگر وہ اس معاملے میں اضافی چارج شیٹ دائر کرنا چاہتی ہے تو یہ 15 دنوں کے اندر کیا جائے۔جانچ ایجنسی نے وکیل امت جندل اور آر این سنہا کو خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا ہے۔ان دونوں وکلاء نے عدالت سے کہا کہ بحث شروع کرنے کے لئے انہیں کچھ وقت چاہئے کیونکہ ایجنسی نے کل رات ہی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔اس پر عدالت نے کہاکہ دونوں فریق کو دو مارچ سے بحث شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پیر کو اس نے جانچ ایجنسی کی اس جنسی حملہ اسکینڈل میں سرکاری وکیل کی تقرری میں تاخیر پر تنقید کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ عدالت کے حکم پر عمل کرنے میں کوئی بھی لاپرواہی عدالت کی توہین ہو گی اور اس کے لئے ایجنسی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے کہا تھاکہ اس بات کی امید نہ کریں کہ عدالت نوٹیفکیشن جاری ہونے کے لئے ہفتے بھر کا انتظار کرے گی،جتنا ہم عدالت عظمی کے حکم کے پابند ہیں، اتنا ہی آپ کو بھی اس کے حکم کے پابند ہیں،ہمیں اس صورتحال میں مت لے جائیں جہاں ہم عدالت عظمی کو لکھنا پڑے کہ سی بی آئی عدالت کی توہین کر رہی ہے۔آپ پہلے ہی ایک بار عدالت کی توہین کا سامنا کر چکے ہیں۔ عدالت نے سات فروری کو حکم دیا تھا کہ مظفر پور شیلٹرہوم جنسی استحصال کیس کی سماعت ساکیت کی بچوں کے جنسی جرائم سیکورٹی ایکٹ (پوکسو) عدالت میں منتقل کی جائے۔ساکیت عدالت روزانہ کی بنیاد پر چھ ماہ میں اس کی سماعت مکمل کرے۔مظفر پور میں این جی او ایک شیلٹرہوم میں کئی لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر عصمت دری ہوئی تھی اور ان کا جنسی استحصال کیا گیا۔یہ معاملہ ٹاٹا سماج سائنس انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا تھا۔